علی ؑ سے محبت ‘اسلام سے محبت

علی ؑ اسلام میں فنا تھے

خداوندِ متعال قرآنِ مجید میں فرماتا ہے: ’’اور انسانوں کے درمیان کوئی ایسا بھی ہے جو رضائے الٰہی کی طلب میں اپنی جان بیچ ڈالتا ہے اور خدا ایسے بندوں پر مہربان ہے۔ ‘‘(سورۂ بقرہ ۲۔ آیت ۲۰۷)اِس آیت میں جس شخصیت کی توصیف کی گئی ہے وہ علی ؑ تھے‘علی ؑ جنہوں نے خدا سے اپنی جان کا سودا کیا اور جن کی کوئی شئے خوداُن کے اپنے لئے نہ تھی ۔ بچپنے ہی سے ‘جبکہ آپ ؑ پیغمبر اسلام ؐکے شفیق سائے میں پروان چڑھ رہے تھے‘ آپ ؑ خدا کے ساتھ تھے اور پیغمبر ؐنے بالکل اِس انداز سے آپ ؑ کی تربیت کا اہتمام کیا تھا جیسے ایک باپ اپنے بچے کی تربیت کیا کرتا ہے۔ اِس بارے میں خودحضرت علی ؑ کا کہنا ہے کہ: ’’جب میں بچہ تھا تو آپ مجھے اپنے ساتھ ساتھ رکھتے تھے‘ اپنے سینے پر جگہ دیتے تھے اور مجھے اپنے بستر پر سلاتے تھے ۔ اپنے جسم کو میرے جسم سے مس کرتے اور اپنی خوشبو مجھے سنگھاتے اور کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ کسی چیز کو چباتے اور پھر اُسے میرے منھ میں رکھتے تھے۔ ‘‘
آپ ؑ مزید فرماتے ہیں: ’’اور میں اُن کے پیچھے پیچھے ایسے ہوتا تھا جیسے اونٹ کا بچہ اپنی ماں کے پیچھے پیچھے چلتا ہے ۔ہر روز آپ ؐاپنے اخلاق میں سے کسی صفت کو میرے سامنے واضح کرتے اور مجھے اُس کی پیروی کا حکم دیتے۔ ‘‘

علی ؑ وحی و رسالت کا نوراور نبوت کی خوشبو محسوس کرتے تھے۔ جب آپ ؑ نے اِس بارے میں پیغمبر ؐسے سوال کیا‘ تو آنحضرت ؐنے جواب میں فرمایا کہ: ’’بے شک تم وہی سنتے ہو جو میں سنتا ہوں اور وہی دیکھتے ہو جسے میں دیکھتا ہوں سوائے یہ کہ تم نبی نہیں ہو۔ ‘‘

جب خداوندِ عالم نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو پیغمبری کے لئے معبوث کیا‘ تو علیؑ فوراً ہی آنحضرت ؐپر ایمان لے آئے‘جبکہ ابھی آپ ؑ کی عمر محض دس برس تھی۔ البتہ اِن کی عقل وخرد بزرگوں کی سی عقل و خرد تھی۔ اِس بارے میں آپ ؑ خود فرماتے ہیں کہ : ’’بارِالٰہا! میں وہ پہلا شخص ہوں جس نے تیری طرف رُخ کیا‘ سنا اور قبول کیا اور رسول اﷲ ؐکے سوا کسی اور نے مجھ سے پہلے نماز نہیں پڑھی‘‘ ۔آپ ؑ رسولِ خدا ؐکے ہمراہ مسجد جایا کرتے تھے۔حضرت خدیجہ ؑ بھی آپ ؑ دونوں کے ہمراہ ہوا کرتی تھیں۔علی ؑ اور خدیجہ ؑ، پیغمبر ؐکے پیچھے نماز پڑھا کرتے تھے۔ حضرت ابوطالب ؑ نے اِنہیں اِس حالت میں دیکھا ۔دیکھا کہ علی ؑ رسول ؐکے برابر کھڑے ہیں اور خدیجہ ؑ ؑ اُن دونوں کے پیچھے۔ یہ دیکھ کر اُنہوں نے اپنے بیٹے جعفر سے کہا :بیٹا! اپنے چچازاد بھائی کے ساتھ نماز پڑھو۔

حضرت علی ؑ رسولِ مقبول ؐکے پورے وجود کا شعور رکھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ آپ ؑ کی عقل و خرد رسولِ مقبول ؐکی عقل و خرد کا تسلسل تھی اور آپ ؑ کے دل کی دھڑکن رسول ؐکے دل کی دھڑکن تھی۔علی ؑ قرآن کے عالم تھے۔ جب کبھی کوئی آیت نازل ہوتی‘ رسولِ مقبول ؐاُس آیت کے تمام پہلوؤں اور اُسکے تمام علمی اور احکامی نکات سے علی ؑ کو آگاہ فرماتے۔ علی ؑ علمِ رسول ؐکے حامل تھے۔ آپ ؑ فرمایا کرتے تھے کہ :رسولِ خدا ؐنے مجھے علم کے ہزار ابواب کی تعلیم دی‘ جس میں سے ہر باب سے مزید ہزار باب کھلتے ہیں۔

رسولِ خدا ؐنے بھی علی ؑ کے علم و دانش کے بارے میں تاکید فرمائی اور فرمایا: ’’میں علم کا شہر ہوں اور علی ؑ اُس کا دروازہ ہیں۔ جو کوئی شہر میں داخل ہونا چاہتا ہے اُسے اُسکے دروازے سے داخل ہونا چاہئے۔ ‘‘

علی ؑ اسلام کے اوّلین مردِ میداں

علی ؑ اسلام کے پہلے مردِ جری تھے۔ آپ ؑ میدانِ بدر کے فاتح تھے۔ سیرت کی کتب میں تحریر ہے کہ معرکۂ بدرمیں مرنے والے دشمنوں کی نصف تعداد علی ؑ کی تلوار سے ماری گئی تھی‘جبکہ بقیہ آدھوں کو تمام مسلمانوں نے مل کر مارا تھا۔ جس وقت علی ؑ میدانِ بدر میں مشغولِ جہاد تھے‘اُس وقت یہ آسمانی ندا بلند ہوئی کہ: لا فتی الا علی ولاسیف الاذوالفقار۔ کیونکہ اُس زمانے میں علی ؑ کی جوانی کی طاقت اپنے عروج پر تھی۔ آپ ؑ معنویت‘ عقل وخرد‘ اسلام اور حق کے دفاع کے اعتبار سے بھی عروج پر تھے۔آپ ؑ میدانِ جنگ میں بھی صرف ایک جنگجو نہ تھے‘بلکہ اپنے مقاصد کو پیش رکھنے والے فرد تھے۔ خودآپ ؑ کا فرمانا ہے کہ: ’’جس وقت میں محاذ پر جنگ وجہاد میں مشغول ہوتاتھا‘ میرا دل رسولِ خدا ؐکی مٹھی میں ہوتاتھا ۔جب بھی مجھے جنگ سے فرصت ملتی تھی میں رسولِ خدا ؐکے پاس آتا‘ تاکہ میرے دل کو قرار آ جائے۔ ‘‘

جنگِ احد کی ابتدا میں مسلمان کامیاب ہو گئے تھے۔ لیکن بعد میں اُن کی فتح شکست میں بدل گئی۔ کیونکہ اُنہوں نے رسولِ مقبول ؐکی نصیحتوں پر عمل نہیں کیا تھا۔اِس جنگ میں بھی علی ؑ مسلسل پیغمبر ؐکے ساتھ ساتھ تھے‘ اور آنحضرت ؐکا دفاع کر رہے تھے ۔یہی وجہ ہے کہ اِس جنگ میں آپ ؑ کو بہت سے زخم آئے۔

علی ؑ جنگوں میں رسول ؐکے ساتھ رہا کرتے تھے۔ اِنہی جنگوں میں سے ایک جنگ‘ جنگِ احزاب تھی‘ جس میں قریش کے مشرکین اپنے حلیفوں کے ساتھ نوخیز اسلام کے خلاف جنگ کے لئے آئے تھے۔’’جب وہ تمہارے اوپر اور نیچے سے تم پر چڑھ آئے اور جب آنکھیں پتھرا گئیں اور (مارے دہشت کے) کلیجے منھ کو آ گئے اور تم لوگ اﷲ کے بارے میں طرح طرح کے (بے جا) گمان کرنے لگے ۔یہ وہ وقت تھا جب مومنین کو آزمائش میں ڈالا گیا اور اُنہیں شدت کے ساتھ ہلا کے رکھ دیا گیا اور جب منافقین اور دلوں میں بیمار ی رکھنے والے کہہ رہے تھے کہ اﷲ اور اُسکے رسول نے جو وعدہ ہم سے کیا تھا وہ فریب کے سوا کچھ نہ تھا۔ ‘‘    )سورۂ احزاب۳۳۔آیت ۱۰ تا ۱۲)

لیکن خداوندِ عالم نے علی ؑ کے ذریعے دوسرے مومنین کو جنگ سے بچالیا۔ عمرو بن عبدو دعامری آیا اور مسلمانوں کو للکارنے لگا۔ رسولِ خدا ؐنے فرمایا : ’’جو کوئی عمرو کے مقابل جنگ کواُترے گا‘ میں خداوندِ عالم سے اُسکے لئے جنت کی ضمانت لوں گا۔ لیکن علی ؑ کے سوا کوئی نہ اٹھا۔ اِسی طرح تین مرتبہ ہوا۔ جب علی ؑ ‘عمرو سے جنگ کے لئے نکلے‘ تو رسول اﷲ ؐنے فرمایا: کُلِ ایمان کُلِ کفر کے مقابل جا رہا ہے۔‘‘ اورجب علی ؑ نے عمر و بن عبدودکو ہلاک کیا تو آنحضرت ؐنے فرمایا:’’ خندق کے دن علی ؑ کی ضربت (تمام ) جن و انس کی عبادت کے برابر ہے۔ ‘‘

معرکۂ خیبر بھی علی ؑ ہی کی بہادری سے سر ہوا۔ جب مرحب نے مسلمانوں کو للکارا‘ تواُس سے مقابلے کے لئے آنحضرتؐ نے ایک شخص کو بھیجا۔ وہ نامراد واپس آیا۔ حال یہ تھا کہ وہ اپنے ساتھیوں کو ڈرا رہا تھا اور اُسکے ساتھی اُسے خوفزدہ کر رہے تھے۔ پیغمبر ؐنے ایک دوسرے شخص کو بھیجا۔ وہ بھی اِسی طرح پلٹ آیا۔ اِسلئے کہ یہودیوں کا قلعہ بہت مضبوط تھا۔یہ صورتحال دیکھ کر رسولِ مقبول ؐ نے فرمایا :’’ کل میں عَلم اُس شخص کے حوالے کروں گا جو خدا اوراُس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور خدا اور اُس کا رسول اُس سے محبت کرتے ہیں۔ وہ مسلسل حملے کرنے والا ہے‘راہِ فرار اختیار کرنے والا نہیں۔ اور جب تک خدا اُسکے ہاتھ سے فتح و نصرت رقم نہ کر دے‘ اُس وقت تک وہ واپس نہیں پلٹے گا۔‘‘ اِس موقع پر علی ؑ آشوبِ چشم میں مبتلا تھے‘ رسولِ مقبول ؐکے قریب آئے‘ آنحضرتؐ نے اپنا لعابِ دہن اُن کی آنکھوں میں لگایا۔بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت علی ؑ فرماتے تھے:’’ میری بینائی پہلے سے زیادہ تیز ہو گئی۔‘‘علی ؑ گئے‘ مرحب کو پچھاڑا اور قلعے میں داخل ہوگئے ۔اِس بارے میں اُن کا کہنا تھا کہ:’’خدا کی قسم!میں نے خیبر کا دروازہ اپنی جسمانی طاقت سے نہیں اکھاڑا‘ بلکہ یہ کام خدائی قوت سے کیا ہے۔‘‘علی ؑ خدا پر ایمان رکھتے تھے اور اسلام و مسلمین سے وفادار تھے۔ اُن کی قوت اور صلاحیت کی بنیاد‘ اُن کی یہی خصوصیات تھیں (نہج البلاغہ کے ایک شارح) ابن ابی الحدید معتزلی حضرت علی ؑ کے ہاتھوں خیبر کا دروازہ اکھاڑے جانے کی بابت کہتے ہیں:’’ آپ ؑ نے اُس دروازے کو اپنی جگہ سے اکھاڑا‘ جسے چوالیس افراد اپنی جگہ سے نہیں ہلا پاتے تھے۔ ‘‘

علی ؑ کی ولایت

علی ؑ اسلام کے مردِ جری تھے ۔آپ ؑ نے اپنی جنگوں کے ذریعے اسلام کوحیات بخشی۔ اِسی طرح آپ ؑ نے اپنی صلح و آشتی اور نرم روی کے ذریعے اسلام کو حیات عطا کی۔ کیونکہ آپ ؑ اپنے مشوروں کے ذریعے مسلمانوں کی رہنمائی فرماتے تھے۔ پیغمبر ؐنے مسلمانوں کو علی ؑ کی حقیقت سے آشنا کیا۔ تاکہ وہ اِس بات سے واقف ہو جائیں کہ صرف علی ؑ ہی ہیں جو رسولِ خدا ؐکے بعد اسلام کی ذمے داری اپنے کاندھوں پر اُٹھا سکتے ہیں اور آپ ؐ نے فرمایا: ’’علی حق کے ساتھ ہیں اور حق علی کے ساتھ۔ حق اِنہی کے مدار پر گردش کرتا ہے۔‘‘ اور آپ ؐہی کا فرمان ہے :’’اے علی! کیا آپ اِس بات پر خوش نہیں ہیں کہ آپ کو وہی منزلت حاصل ہے جو ہارون کو موسیٰ کی نسبت سے حاصل تھی‘ سوائے اِسکے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔ ‘‘

آیۂ شریفہ: ’’اے رسول! جو کچھ آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے اُسے پہنچا دیجئے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو گویا آپ نے اﷲ کا پیغام نہیں پہنچایا۔‘‘ (سورۂ مائدہ آیت ۶۷) نازل ہونے پر علی ؑ ‘ رسول ؐکی انتہائی توجہ کا مرکز بن گئے۔ خدا نے اپنے پیغمبر ؐ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ: علی ؑ کی ولایت کے بارے میں جو کچھ آپ ؐپر نازل ہوا ہے اُسے لوگوں تک پہنچا دیجئے۔ کیونکہ آپؐ کی وفات قریب ہے اورآپ ؐاِس دنیا سے کوچ سے پہلے علی ؑ کو خلیفۂ مسلمین منصوب کر دیجئے۔ لہٰذا آنحضرت (ؐغدیر خم کے مقام پر) ٹھہرے اور حضرت علی ؑ کا ہاتھ بلند کیا ‘یہاں تک کہ دونوں کی زیر بغل سفیدی نمایاں ہو گئی اور پھرآنحضرت ؐنے فرمایا: ’’جس کا میں مولا ہوں‘ یہ علی اسکے مولا ہیں۔ بارِالٰہا! جو اِس سے محبت کرے ‘تو اُس سے محبت کرنا اور جو اِس سے دشمنی کرے‘ تو اُس سے دشمنی کرنا ۔جو اِسکی مددکرے‘ تواُسکی مدد فرما اور جو اِسے چھوڑے تو اُسے چھوڑ دینا اور حق کو اِنہی کے محور پر گردش دینا۔ ‘‘
مہاجرین اور انصار میں سے علی ؑ ہی رسولِ مقبول ؐکے بھائی بنائے گئے۔ پیغمبر ؐنے اُن سے فرمایا: ’’تم دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہو۔ ‘‘

رسولِ مقبول ؐکے بعد ایسے مسائل نے جنم لیا کہ علی ؑ اپنے اُس حق سے محروم کردیے گئے جسے خدا نے اُن کے لئے قرار دیا تھا۔اِس صورتحال میں علی ؑ نے کیا مؤقف اختیار کیا؟ آپ ؑ نے سب سے برتر اور بہترہونے کے باوجودکبھی ذاتی حوالے سے نہیں سوچا۔ بلکہ ہمیشہ اسلام کی فکر کی‘ خدا اور اُسکے رسول ؐکے بارے میں سوچا۔ نہج البلاغہ میں ہم پڑھتے ہیں کہ آپ ؑ نے فرمایا

’’مگر ایک دم میرے سامنے یہ منظر آیا کہ لوگ فلاں شخص کے ہاتھ پر بیعت کے لیے دوڑ پڑے ہیں۔ اِن حالات میں‘ میں نے اپنا ہاتھ روکے رکھا۔ یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ لوگوں کا ایک گروہ اسلام سے منھ موڑ کر دین محمدؐ کو مٹا دینے پر تُل گیا ہے۔ مجھے اِس بات کا خوف ہوا کہ کوئی رخنہ یا خرابی دیکھنے کے باوجود اگر میں اسلام اور اہلِ اسلام کی مدد نہ کروں تو یہ میرے لیے اِس سے بڑی مصیبت ہوگی جتنی تمہاری حکومت میرے ہاتھ سے چلی جانے کی مصیبت‘ جو تھوڑے دنوں کا اثاثہ ہے‘ اِس میں کی ہر چیز سراب اور اُن بدلیوں کی مانند جو ابھی جمع نہ ہوئی ہوں زائل ہوجانے والی ہے۔ چنانچہ اِن حالات میں‘ میں اُٹھ کھڑا ہوا تاکہ باطل نیست و نابود ہوجائے اور دین محفوظ ہوکر تباہی سے بچ جائے۔‘‘ (نہج البلاغہ۔ مکتوب ۶۲)

ان لوگوں نے علی ؑ کو اُن کے حق سے دور کیا ‘ لیکن اِسکے باوجود علی ؑ اُنہیں اپنے مشوروں سے نوازتے رہے‘ اُن کی جانوں کی حفاظت کرتے رہے اور اسلامی معاشرے میں بہترین انداز سے اپنی ذمے داریوں پر عمل کرتے رہے ۔کیونکہ علی ؑ کبھی اپنی ذات کے بارے میں نہیں سوچتے تھے۔ بلکہ آپ ؑ کی فکر اپنے مشن اور اپنی ذمے داری کے بارے میں ہوتی تھی۔ آپ ؑ کی سوچ یہ تھی کہ مسلمانوں کے درمیان کوئی فتنہ پیدا نہ ہو اور کفارو مشرکین کے مقابل اُن کا محاذ کمزور نہ پڑنے پائے۔یہی وجہ ہے کہ آپ ؑ نے اپنے اِس لافانی کلام میں فرمایا: ’’جب تک مسلمانوں کے امور سلامت ہیں اور میرے سوا کسی اور پر ظلم روا نہیں رکھا جاتا میں صلح و آشتی کے ساتھ رہوں گا۔ ‘‘

دوستو! شیعوں اور غیر شیعوں کے لئے حضرت علی ؑ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ ایسے لوگ جوہر موقع پر مسلمانوں کے درمیان فتنہ و فساد کی آگ بھڑکاتے ہیں‘ ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگاتے ہیں‘ ایک دوسرے کے خلاف جنگ وجدال کرتے ہیں‘ ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے ہیں اور اپنی قوتوں کو بکھیرتے ہیں‘ اور اُن لوگوں سے جو نامناسب گفتگو کرتے ہیں اورایک دوسرے کے مقدّسات کے خلاف گالم گلوچ اور لعن طعن کرتے ہیں حضرت علی ؑ فرماتے ہیں میں نے اسلام کا دفاع کیا ‘اسلامی معاشرے سے فتنوں کا خاتمہ کیا ‘باوجود یہ کہ حق میرا تھا‘جب اُنہوں نے سنا کہ اُن کے لشکر والے شامیوں کو گالیاں دے رہے ہیں‘ تو اُن سے فرمایا: ’’مجھے پسند نہیں ہے کہ تم گالیاں دینے والے بنو‘ البتہ اگر اُن کے کردار کی وضاحت اور اُن کے اعمال کا ذکر کرو‘ تو یہ کام گفتار میں مناسب تر اور عذر خواہی میں بہتر ہے۔ اُنہیں گالم گلوچ دینے کی بجائے کہو : بارِالٰہا! اُن کے اور ہمارے خون کو بہنے سے بچااور اُن کے اور ہمارے درمیان اصلاح فرما‘ اُنہیں گمراہی سے ہدایت فرما‘ تاکہ وہ حق کو پہچانیں اور جس سرکشی اور بغاوت کو اُنہوں نے اپنایا ہے اُس سے باز آ جائیں۔ ‘‘

علی ؑ ‘پیشوائے زُہد

ہم نے علی ؑ کی عقل و خرد ‘اُن کے افکار و خیالات اور اُن کے طرزِ عمل پرگفتگو کی۔ ہمیں چاہئے کہ علی ؑ کو پہچانیں اور اُن کی عظمت سے اپنے کردار میں بلندی پیدا کریں۔ ایک مرتبہ آپ ؑ نے اپنے ساتھیوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:’’ جان لو کہ تمہارے امام ؑ نے اپنی دنیا سے دو فرسودہ کپڑوں اور دو روٹیوں پر اکتفا کیا ہے‘ تم ایسا نہیں کر سکتے لیکن پارسائی کی کوشش‘ پاکدامنی اور درستکاری کے ذریعے میری مدد کرو۔ ‘‘

لیکن لوگوں نے علی ؑ کی راہ میں کانٹے اگائے اور جب آپ ؑ نے خلافت کی باگ ڈور سنبھالی اور اسلامی معاشرے کو بہترین طریقے سے رفعتوں پر پہنچانا چاہا تو ناکثین‘ قاسطین اور مارقین اٹھ کھڑے ہوئے ۔گویا اُنہوں نے اِس کلامِ الٰہی کوسناہی نہ تھا کہ جس میں وہ فرماتا ہے کہ :’’یہ دارِ آخرت وہ ہے جسے ہم اُن لوگوں کے لئے قرار دیتے ہیں جو زمین میں بلندی اور فساد کے طلبگار نہیں ہوتے ‘اور عاقبت تو صرف صاحبانِ تقویٰ کے لئے ہے۔‘‘ (سورہ قصص ۲۸۔ آیت ۸۳)

ہاں جانتے تھے‘ لیکن اُن کی نظر میں دنیا کی رنگینیاں تھیں اور اُسکی زیب و زینت اُن کی نگاہوں میں خوشنما تھی ۔اِسکے بعد آپ ؑ فرماتے ہیں کہ :’’ اُس خدا کی قسم جس نے دانے کو شگافتہ کیا اور روح کو خلق کیا ‘اگر بیعت کرنے والوں کی کثرت اور مدد کرنے والوں کی موجودگی سے مجھ پر حجت تمام نہ ہوگئی ہوتی اور وہ عہد نہ ہوتا جواﷲ نے علما سے لے رکھا ہے کہ وہ ظالم کی شکم سیری اور مظلوم کی بھوک دیکھ کر سکون و اطمینان سے نہ بیٹھے رہیں‘ تو میں خلافت کی باگ اُسی کے کاندھے پر ڈال دیتا اور اُسکے آخر کو اُسی پیالے سے سیراب کرتا جس پیالے سے اُسکے اوّل کو سیراب کیا تھا اور تم دیکھتے کہ تمہاری دنیا میری نظروں میں بکری کی چھینک سے بھی زیادہ بے قیمت ہے ۔"

( نہج البلاغہ ۔ خطبہ ۳)

(ایک اورموقع پر ) ابن عباس نے دیکھا کہ علی ؑ اپنی جوتی سی رہے ہیں ‘امام ؑ نے اُن سے فرمایا:’’ اِس جوتی کی کیا قیمت ہو گی؟ ابن عباس نے کہا: اِسکی کوئی قیمت نہیں۔ فرمایا: خدا کی قسم ! مجھے یہ تمہاری حکومت سے زیادہ محبوب ہے‘ مگر یہ کہ (اِس حکومت کے ذریعے) حق کو برقرار کروں اور باطل کاخاتمہ کروں۔ ‘‘

علی ؑ سراسر حق تھے اور ہمیشہ حق کے ہمراہ تھے ۔آپ ؑ فرماتے تھے: ’’حق نے میرا کوئی دوست باقی نہ رہنے دیا۔ ‘‘

کیا آپ علی ؑ کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں؟

علی ؑ فقط اشک فشانی نہیں‘ علی ؑ محض قلبی احساسات نہیں‘ علی ؑ حق ہیں۔ کیا آپ ؑ حق کے ساتھ ہیں‘ تاکہ علی ؑ کے ساتھی ہوسکیں؟ تمام اعتقادی ‘دینی‘ سیاسی اور تمام انفرادی اور اجتماعی مسائل میں حق۔

پیغمبر ؐفرماتے ہیں :’’ علی حق کے ساتھ ہیں اور حق علی کے ہمراہ۔‘‘ علی ؑ اور حق کبھی جدا نہیں ہوتے۔ پس جو کوئی باطل عمل کا ارتکاب کرے‘ لوگوں سے جھوٹ بولے‘ اُنہیں فریب دے ‘اُن کے ساتھ خیانت کرے اور اپنے گھر اور اپنے معاشرے میں ظلم وستم کے ساتھ پیش آنے والا ہو‘ وہ علی ؑ سے کوئی تعلق نہیں رکھتا اور حق سے بھی اُس کا کوئی تعلق نہیں۔

جب ہم امام علی ؑ کی ولادت کا ذکر کرتے ہیں ‘تو ہم چاہتے ہیں کہ اُن کی ولادت پر خود ہم نئے سرے سے پیدا ہوں ‘اور اُن کے عاقلانہ طرزِ عمل کے ذریعے ہم میں دوبارہ عقل پیدا ہو اور اُن کی معنویت کے توسط سے ہماری روح ایک مرتبہ پھر جنم لے اور اُن کے اخلاق کے ذریعے ہمارا اخلاق دوبارہ زندہ ہو جائے۔

علی ؑ اسلام کا گوہرِ گراں بہا ہیں ۔آیئے فکری‘ عملی‘ قولی اور اقداری پہلوؤں سے علی ؑ کے ساتھ ہوں ‘علی ؑ کے محور پر ہماری شیرازہ بندی ہو اور شیعوں اور سنیوں میں سے جو لوگ علی ؑ کے نام پر فتنہ و فساد پھیلاتے ہیں اُنہیں مسترد کریں ‘اپنی صفوں سے نکال پھینکیں۔

غلو کا علی ؑ سے کوئی تعلق نہیں

علی ؑ کو ایسی پُرشکوہ عظمت نصیب ہوئی کہ ایک گروہ اُن کے بارے میں غلو کرنے لگا اور اُس نے اُنہیں خدا کی حد تک پہنچا دیا۔ علی ؑ نے ایسے تمام لوگوں کی مذمت کی‘ اُنہیں مسترد کیا ‘کیونکہ علی ؑ خدا کے سامنے خاشع اور متواضع تھے ۔آپ فرماتے تھے :’’میں تیرا ضعیف‘ ذلیل‘ حقیر اور مسکین بندہ ہوں۔ ‘‘

(دعائے کمیل)

آپ ؑ بارگاہِ الٰہی میں خاکسار تھے‘خاک پر پیشانی ٹیکا کرتے تھے‘ یہاں تک کہ رسولِ خدا ؐنے اآپ ؑ کو ابوتراب کا لقب دیا۔ لیکن ایران‘ عراق اور لبنان میں بعض لوگ طرح طرح سے غلو کرتے ہیں ‘حتی اِن میں سے بعض نامعقولیت کی حدیں عبور کر لیتے ہیں اور کہتے ہیں:’’ حضرت زہرا ؑ پیغمبر اؐور علی ؑ سے افضل ہیں۔‘‘

یہ لوگ اِس سلسلے میں ایک ضعیف روایت پیش کرتے ہیں‘جس میں آیا ہے : ’’ولولا فاطمۃ لما خلقتکما۔۔۔‘‘ (اگر فاطمہ کو خلق نہ کرتا تو تم دونوں کو خلق نہ کرتا) حضرت فاطمۃ زہرا سلام اﷲ علیہا کی عظمت اِس بات میں ہے کہ آپ ؑ نے آغوشِ رسول ؐمیں پرورش پائی‘ اِن کی عظمت اِس بنا پر ہے کہ اِنہوں نے علی ؑ کے ساتھ زندگی بسر کی اور علی ؑ کی عظمت کا سبب یہ ہے کہ وہ رسول اﷲ ؐکے شاگرد تھے‘اور رسول اﷲ ؐایک کوہِ بلند ہیں‘ استاد ہیں‘ پیغمبر ؐہیں ۔اور علی ؑ اور فاطمہ ؑ کی فضیلت یہ ہے کہ وہ پیغمبر ؐکے شاگرد ہیں‘ اُنہوں نے رسول اﷲ ؐکاخُلق وخو اپنایا اور اُن کی عقل‘ رسولِ خدا ؐسے لی ہوئی عقل و خرد ہے۔ ہمیں غلو اور غلوکرنے والوں سے دور رہنا چاہئے۔

اہلِ بیت ؑ کی محبت یہ ہے کہ ہم اسلام سے محبت کریں اور خدا اور اُسکے رسول ؐکی اطاعت کریں اور اسلامی احکام کی بنیاد پر عمل کریں۔ علی ؑ کا روزِ ولادت اِس نکتے کو یاد دلاتا ہے کہ ہم اسلام کے وفادار رہیں اور اندرونی اور بیرونی سازشوں اور چیلنجوں سے اُسکی حفاظت کریں۔

------